:
Breaking News

PM Modi Indonesia Visit: انڈونیشیا کی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مودی کا خطاب، کہا بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی پسندی پر یقین رکھتا ہے

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar: وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی پسندی کے راستے پر چلتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، جمہوریت اور مشترکہ ترقی پر بھی زور دیا۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سرکاری دورۂ انڈونیشیا کے دوران وہاں کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پہچان توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی پسندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ امن، شراکت داری، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کا آغاز 140 کروڑ بھارتی عوام کی جانب سے انڈونیشیا کے عوام کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نمائندے کی حیثیت سے انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا کے عوام کی محبت، عزت اور پرتپاک استقبال پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت ہمیشہ ان کے دل میں رہے گی۔

انہوں نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محبت، دوستی اور باہمی احترام پر کسی کا کاپی رائٹ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کی اور صدر پرابوو کی دوستی ہر قسم کی حد بندی سے بالاتر ہے، جس پر پارلیمنٹ میں موجود ارکان نے تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انہیں انڈونیشیا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز حاصل کرنے کا موقع ملا، جسے وہ اپنے لیے نہیں بلکہ 140 کروڑ بھارتی عوام کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد، تاریخی تعلقات اور دیرینہ دوستی کی علامت ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا اس وقت تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اکیسویں صدی کے پہلے پچیس برس مکمل ہو چکے ہیں اور آئندہ پچیس برس دونوں ممالک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مشترکہ ترقی، مشترکہ خوشحالی اور پوری انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری سلامتی، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا مل کر پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد تعاون، اعتماد اور مشترکہ ترقی ہے۔ بھارت کسی بھی ملک پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی بجائے برابری، شراکت داری اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے۔ یہی سوچ بھارت کو عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد شراکت دار بناتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ خطاب نہ صرف بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کو نئی سمت دینے والا ہے بلکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی کا بھی واضح پیغام ہے۔ بھارت مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ خطے میں امن، آزاد بحری راستوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام برقرار رہنا چاہیے۔

یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *